مستشارعدلی حسین (ایک عرب سکالر)کافکرانگیزمقالہ .
کروناوائرس پرلعنت مت بھیجو اسلئے کہ اس نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اوراس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیاہے۔
کیایہ کارنامہ اس کے لئے کافی نہی ہے کہ اس نے پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بندکردئے۔سینماگھر،نائٹ کلب،رقص گاہیں،شراب خانے،جواخانےاورجنسی بےراہ روی کےمراکز۔بلکہ سودکی شرح بھی کم کردی۔
اس نےخاندانوں کوایک طویل جدائ کے بعدان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھاکیا۔
اس نے مرداورعورت کوایک دوسرے کوبوسادینے سے بھی روکا۔
اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پرمجبورکیاکہ شراب پیناتباہی ہے،لہذااس سے اجتناب کیاجائے۔
اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پرمجبورکیاکہ درندے،شکاری پرندے،خون،مردار اورمریض جانورصحت کے لئے تباہ کن ہیں۔
اس نے انسان کوسکھایاکہ چھینکنے کاطریقہ کیاہے،صفائ کس طرح کی جاتی ہے جوہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایاہے۔
اس نےفوجی بجٹ کاایک تہائ حصہ صحت کی طرف منتقل کیاہے۔اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیاہے۔
اس نےدنیاکے بعض بڑے ممالک کےحکمرانوں کوبتادیاکہ لوگوں کوگھروں میں پابندکرنے،جبری بٹھانےاوران کی آزادی چھین لینےکامعنی کیاہوتاہے۔
اس نے لوگوں کواللہ سےدعامانگنے زاری کرنےاوراستغفارکرنے پرمجبور اورمنکرات اورگناہ چھوڑنے پرآمادہ کیاہے۔
اس نےمتکبرین کے کبروغرورکاسرپھوڑدیااورانہیں عام ا نسانوں کی طرح لباس پہنایا۔
اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگرآلودگیوں کوکم کرنے کی طرف متوجہ کیاجن آلودگیوں نے باغات،جنگلات،دریااورسمندروں کوگندہ کیاہے۔
اس نے ٹکنالوجی کورب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے۔
اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔
اورسب سے بڑاکارنامہ یہ کیاہے کہ اس نے انسانوں کواللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا،شرک اورغیراللہ سے مددمانگنے سے منع کیا۔
آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ایک جندی (لشکر) انسانیت کےلئے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔
تواے لوگو! کروناوائرس پرلعنت مت بھیجو۔ یہ تمہارے خیر کے لئے آیاہے کہ اب ا نسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔۔
بشکریہ.محمد کمال

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here