Home Blog

عورت نے سنا اور نوجوان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے چومے

0

ایک بیس بائیس سالہ نوجوان ہائپر سٹار میں داخل ہوا اور کچھ خریداری کر ہی رہا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ ایک خاتون اس کا تعاقب کر رہی ہے، مگر اس نے اسے اپنا شک سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا اور خریداری میں مصروف ہوگیا۔
لیکن وہ عورت مستقل اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ اب کی بار اس نوجوان سے رہا نہ گیا۔
وہ یک لخت خاتون کی طرف مڑا اور پوچھا: خیریت ہے؟
عورت: بیٹا آپ کی شکل میرے مرحوم بیٹے سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے آپ کے پیچھے چل پڑی۔
عورت نے یہ کہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔
نوجوان: کوئی بات نہیں امی جی آپ مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیں۔
عورت: بیٹا کیا ایک دفعہ پھر آپ مجھے امی جی کہو گے؟
نوجوان نے اونچی آواز سے کہا جی امی جی……
لیکن خاتون نے گویا نہ سنا ہو۔
نوجوان نے پھر بلند آواز سے کہا جی امی جی….
عورت نے سنا اور نوجوان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے چومے، اپنی آنکھوں سے لگائے اور روتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوگئی۔
نوجوان اس منظر کو دیکھ کر اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، اور وہ اپنی خریداری پوری کیے بغیر واپس چل دیا۔
کاؤنٹر پر پہنچا تو کیشیئر نے دس ہزار کا بل تھما دیا….
نوجوان نے پوچھا دس ہزار کیسے؟
کیشیئر : آٹھ سو کا بل آپ کا ہے اور نو ہزار دو سو آپ کی والدہ کا، جنھیں آپ ابھی امی جی امی جی کہہ رہے تھے۔
وہ دن اور آج کا دن، وہ نوجوان اپنی حقیقی امی کو بھی خالہ جان کہتا ہے۔

👑

محمود غزنوی نے اس شخص کو مانگی ھوئی قیمت ادا کردی

0

محمود غزنوی کے پاس ایک شخص ایک چکور لایا تو محمود غزنوی نے اس سے اس چکور کی قیمت پوچھی تو اس نے قیمت بہت زیادہ بتائی تو محمود غزنوی نے اس شخص سے پوچھا کہ اس چکور کی ایک ٹانگ بھی نہیں ھے اور تم اس کی قیمت زیادہ بتا رھے ھو تو اس شخص نے کہا کہ اس کی قیمت اس لئے زیادہ ھے کہ جب میں شکار پر جاتا ھوں تو اس چکور کو ساتھ لے جاتا ھوں اور اس کو جال کے ساتھ باندھ دیتا ھوں اور یہ عجیب عجیب آوازیں نکالتا ھے اور اسکی آواز پر
دوسرے چکورجمع ھو جاتے ھیں اور میں انکا شکار کرتا ھوں
تو محمود غزنوی نے اس شخص کو مانگی ھوئی قیمت ادا کرکے
اس چکور کو ذبح کر دیا اس شخص نے محمود غزنوی سے پوچھا کہ اتنی قیمت ادا کرکے آپ نے اس چکور کو ذبح کر دیا
تو محمود غزنوی نے تاریخی جملہ کہا جو بھی کوئی دوسروں کی دلالی کے لئے اپنوں کو نقصان پہنچائے ان کا یہی حشر ھونا چاھئے

2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،

0

1۔ میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا، میں نے کہا ٹھیک ہے ایک لاکھ دے دیتا ہوں لیکن پیسہ لیتے وقت دو گواہ ہوں گے اوراسٹامپ پیپر پر لکھ کر بھی دینا ہو گا۔
اُس نے کہا مجھ پر یقین نہیں ہے،
میں نے کہا بالکل ہے مگر شریعت کے مطابق قانونی کاروائی ضروری ہے۔
وہ مجھ سے ناراض ہو گیا، میں نے منانے کے لئے اُسے کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا حالانکہ میں نے مذاق نہیں کیا تھا،
خیر میں نے اُسے گواہوں اور کاغذی کاروائی کے بغیر ایک لاکھ دے دیا۔

2۔ دو سال ہوگئے میرے دوست نے پیسے واپس نہیں کئے،
میں نے مانگے تو کہنے لگا میں نے تو واپس کر دیئے تھے۔
میں نے کہا کہ جھوٹ بولتے ہو تو غصے سے کہنے لگا کہ تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو۔
کوئی گواہ ہے تمہارے پاس، کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔

3۔ میرے کچھ دوست بڑے بد قماش تھے، وہ بھی میرے پاس آ گئے اورکہنے لگے ہمیں 20 ہزار خرچہ پانی دو ہم تمہیں اُس سے پیسے لے کر دیتے ہیں اور یہ ایک نئی پریشانی تھی۔

4۔ میں تھانے میں گیا اور کہاکہ میرے دوست نے مجھ سے ایک لاکھ لیا تھا مگر واپس نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کوئی ثبوت یا گواہ۔
میں نے کہا کوئی نہیں۔

تھانے دار نے کہا کہ بینک میں پیسے جمع کرواتے ہو تو رسید دیتے ہیں،
لینے جاتے ہیں تورسید دیتے ہیں۔
سارے مسلمان ہی ہیں کیوں رسید مانگتے اور دیتے ہیں۔

اسلئے کہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔آپ جھوٹے ہو ورنہ ثبوت لاؤ۔

5۔ تنگ آ کر میں نے بھی دو جھوٹے گواہ تیار کئے اور اُن کے ذریعے سے تھانیدار کے پاس گیا،
انہوں نے تحریری طور پر لکھا کہ فلاں دوست نے اس کے پیسے دینے ہیں،

پھر گواہی دینے والے دوستوں کی کئی غلط باتیں زندگی میں مجھے ماننا پڑیں۔

6۔ تھانیدار نے قرضہ لینے والے دوست کو بُلایا،
اُس نے 20ہزار تھانیدار کو دیئے اور اُلٹا میرے خلاف پرچا کروا دیا۔
میرے پیسے پہلے ہی پھنسے ہوئے تھے، اوپر سے پرچہ ہونے پر میں نے اپنے دوست سے معافی مانگی اور بیان دیا کہ اس نے میرے کوئی پیسے نہیں دینے تب کہیں اُس نے مُسکراتے ہوئے پرچہ واپس لیا۔

7۔ گھر آیا تو گھر والوں نے علیحدہ پریشان کیا کہ گھر کے حالات اچھے نہیں، دوست بھی ایسے ہی بنائے ہوئے ہیں،ایک غلط فیصلے نے بہت ذلیل کروایا۔

8۔ یہ دُنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں زندگی گزارنے کے اصول بھی عطا فرمائے ہیں
ان اصولوں کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی سے معاملات طے کرنے پر جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہونگے

اور آج کے پر فتن دور میں کسی پر اعتماد اور یقین کرنا بڑا مشکل کام ہے۔

نکاح کرتے وقت گواہ تو ہوتے تھے مگر لوگ پھر بھی مُکر جاتے تھے،
اس لئے جنرل ایوب نے نکاح فارم متعارف کروایا تاکہ عوام جھوٹ نہ بولیں ۔

اب طلاق دے کر بھی لوگ مُکر جاتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں دی۔

9۔ یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے۔
گواہ اور تحریری دستاویزات بنانے سے وہی ڈریں گے جو غلط کام کرتے ہیں
یا مجھ جیسے جاہل کو سبز باغ دکھا کر لُوٹنا چاہتے ہیں۔

10۔ قرآن پاک میں ہے

اے ایمان والو!
جب تم لین دین کا کوئی معاملہ کیا کرو تو اسکو تحریر کر لیا کرو اور دو گواہ بھی بنا لیا کرو

(سورہ البقرہ)

11۔ بہن بھائیوں میں وراثت کا مسئلہ ہو، کسی کو قرضہ دینا ہو، کسی کو مکان کرائے پر دینا ہو، یا جس معاملے میں پیسوں کا مسئلہ ہو، گواہ اور لکھت پڑھت بہت ضروری ہے۔

آزمائش پھر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم نے قرآن و احادیث پر ہی چلنا ہے تاکہ اللہ کریم کے حضور اجر پائیں اور دنیا میں بھی مشکلات سے بچ سکیں

ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

اللہ تعالیٰ ہمیں دین سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یا رب العالمین

جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا

عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گهر لائے

0

گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کس نے کسی شخص کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا.
نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا , سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے .. نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی.
وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے آفس بوائے بهی ٹیلی فون آپریٹر بهی سویپر بهی اور مالک بهی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے .. عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا غلہ رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تهے .. یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چهوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتهر اٹها کر ان کے سامنے کهڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی اج وہ بچہ بنک میں بڑا افسر ہے ..
یہ نعشیں اٹهانے بهی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بهی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گهر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑهایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کهود کر نعش دفن کر دی .. بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکهے پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا آوارہ بچوں کو فٹ پاتهوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکها تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا پاگل خانے بنا لیے چلڈرن ہوم بنا دیا دستر خوان بنا دیئے عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا .. لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدهی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا .. ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی .. عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پهرتے تهے یہ وہاں بهی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے ..
عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گهر لائے - Saqib Ali Khan | Expert Website Designer
ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے.. انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تهے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جهولی میں ڈال دیتی تهیی نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تهے .. عبدالستار ایدھی آج اس دنیا میں نہیں ھیں مگر ان کے بنائے ھوئے فلاحی ادارے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ھیں..
اللہ پاک ایدھی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماے.. آمین.

خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں

0

ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا، اسکا بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہنے لگا “امی جی! ابھی کل ہی تو میں نمک بازار سے لے آیا تھا پھر یہ ہمسائیوں سے مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟”
ماں جی کہنے لگی، “بیٹا! ہمارے ہمسائے غریب ہیں وہ وقتاً فوقتاً ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچن میں نمک موجود ہے لیکن میں نے ان سے نمک صرف اس لئے مانگ لیا تاکہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہ کریں، بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہیں، یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے۔”
خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں - Saqib Ali Khan | Expert Website Designer

خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں۔

ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا

0

ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا۔ اس یہودی کے ساتھ۔ اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ اس مسلمان کی یہ عادت تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ کہتاتھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی اس مسلمان سے ملتا۔ وہ مسلمان اسے اپنا یہ جملہ ضرور سناتا اور جو بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں کئی بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ اس مسلمان کا یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا۔
اس نے ایک سازش تیار کی تاکہ اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیا جائے۔ اور ’’درود شریف‘‘ کی تاثیر پر اس کے یقین کو کمزور کیا جائے۔ اور اس سے یہ جملہ کہنے کی عادت چھڑوائی جائے۔ یہودی نے ایک سنار سے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ اور اسے تاکید کی کہ ایسی انگوٹھی بنائے کہ اس جیسی انگوٹھی پہلے کسی کے لئے نہ بنائی ہو۔ سنار نے انگوٹھی بنا دی۔
ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا - Saqib Ali Khan | Expert Website Designer
وہ یہودی انگوٹھی لے کر مسلمان کے پاس آیا۔ حال احوال کے بعد مسلمان نے اپنا وہی جملہ ، اپنی وہی دعوت دہرائی کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘۔ یہودی نے دل میں کہا کہ۔ اب بہت ہو گئی۔ بہت جلد یہ ’’جملہ ‘‘ تم بھول جاؤ گے۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد یہودی نے کہا۔ میں سفر پر جا رہا ہوں۔ میری ایک قیمتی انگوٹھی ہے۔ وہ آپ کے پاس امانت رکھ کر جانا چاہتا ہوں۔ واپسی پر آپ سے لے لوں گا۔ مسلمان نے کہا۔
کوئی مسئلہ نہیں آپ بے فکر ہو کر انگوٹھی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ یہودی نے وہ انگوٹھی مسلمان کے حوالے کی اور اندازہ لگا لیا کہ مسلمان نے وہ انگوٹھی کہاں رکھی ہے۔ رات کو وہ چھپ کر اس مسلمان کے گھر کودا اور بالآخر انگوٹھی تلاش کر لی اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اگلے دن وہ سمندر پر گیا اور ایک کشتی پر بیٹھ کر سمندر کی گہری جگہ پہنچا اور وہاں وہ انگوٹھی پھینک دی۔ اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جب واپس آؤں گا۔ اور اس مسلمان سے اپنی انگوٹھی مانگوں گا تو وہ نہیں دے سکے گا۔ تب میں اس پر چوری اور خیانت کا الزام لگا کر خوب چیخوں گا اور ہر جگہ اسے بدنام کروں گا۔ وہ مسلمان جب اپنی اتنی رسوائی دیکھے گا تو اسے خیال ہو گا کہ درود شریف سے کام نہیں بنا اور یوں وہ اپنا جملہ اور اپنی دعوت چھوڑ دے گا ۔ مگر اس نادان کو کیا پتا تھا کہ۔ درود شریف کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہودی اگلے دن واپس آ گیا۔
سیدھا اس مسلمان کے پاس گیا اور جاتے ہی اپنی انگوٹھی طلب کی۔ مسلمان نے کہا آپ اطمینان سے بیٹھیں آج درود شریف کی برکت سے میں صبح دعا کر کے شکار کے لئے نکلا تھا تو مجھے ایک بڑی مچھلی ہاتھ لگ گئی۔ آپ سفر سے آئے ہیں وہ مچھلی کھا کر جائیں۔ پھر اس مسلمان نے اپنی بیوی کو مچھلی صاف کرنے اور پکانے پر لگا دیا۔ اچانک اس کی بیوی زور سے چیخی اور اسے بلایا۔ وہ بھاگ کر گیا تو بیوی نے بتایا کہ مچھلی کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی ہے۔ اور یہ بالکل ویسی ہے جیسی ہم نے اپنے یہودی پڑوسی کی انگوٹھی امانت رکھی تھی۔ وہ مسلمان جلدی سے اس جگہ گیا جہاں اس نے یہودی کی انگوٹھی رکھی تھی۔ انگوٹھی وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ مچھلی کے پیٹ والی انگوٹھی یہودی کے پاس لے آیا اور آتے ہی کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔
پھر اس نے وہ انگوٹھی یہودی کے ہاتھ پر رکھ دی۔ یہودی کی آنکھیں حیرت سے باہر، رنگ کالا پیلا اور ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کہا یہ انگوٹھی کہاں سے ملی؟۔ مسلمان نے کہا۔ جہاں ہم نے رکھی تھی وہاں ابھی دیکھی وہاں تو نہیں ملی۔ مگر جو مچھلی آج شکار کی اس کے پیٹ سے مل گئی ہے۔ معاملہ مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا مگر الحمد للہ آپ کی امانت آپ کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے پریشانی سے بچا لیا۔ بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔ یہودی تھوڑی دیر کانپتا رہا پھر بلک بلک کر رونے لگا۔ مسلمان اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
یہودی نے کہا مجھے غسل کی جگہ دے دیں۔ غسل کر کے آیا اور فوراً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگا اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ وہ بھی رو رہا تھا اور اس کا مسلمان دوست بھی۔ اور مسلمان اسے کلمہ پڑھا رہا تھا اور یہودی یہ عظیم کلمہ پڑھ رہا تھا۔ جب اس کی حالت سنبھلی تو مسلمان نے اس سے ’’وجہ‘‘ پوچھی تب اس نومسلم نے سارا قصہ سنا دیا۔ مسلمان کے آنسو بہنے لگے اور وہ بے ساختہ کہنے لگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے ۔ اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔
ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہوسکتی ہیں شکریہ.

Mardan Board Result Book SSC 2020 free Download

0
Mardan board online result
Mardan board online result

Mardan Board Result Book SSC 2020 free Download

Mardan board online result
Mardan board result Book

download mardan board result guzzet book from below button

Download Now

ترگت الپ کی بچپن عام بچوں کی طرح گزر رہی تھی

0

#ترگت_الپ
ترگت الپ کی بچپن عام بچوں کی طرح گزر رہی تھی کہ اچانک تاتاریوں کے خلاف جنگ میں انکے ماں باپ شہید ہوئے اور ان کے دو ساتھی #بامسی_اور_روشان تھے انکے بھی ماں باپ شہید ہوئے تھے منگولوں کے خلاف لڑائی میں,
یہ تینوں 16 سال کی عمر میں ایک پہاڑی میں پناہ گزین تھے, کچھ عرصہ بعد #غازی_ارطغرل جنگی مہارت حاصل کرنے کیلئے پہاڑیوں میں جارہے تھے ان تینوں سے ملاقات ہو گئ اور وہ انہیں قبیلے لے آئے ان تینوں کو وہ بھائی بنانے لگے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تینوں ارطغرل کے وفادار اور ذاتی محافظ بنے یہ تینوں بہت طاقتور اور بہادر تھے اور ان تینوں میں قابل اور سنجیدہ ترگت تھے,
ترگت تلوار کی جگہ کلہاڑی کو جنگ میں استعمال ہونے کو ترجیح دیتے تھے اور انتہائی مہارت کے ساتھ کلہاڑی سے باطل کو نیست ونابود کرتے تھے, انکے متعلق تاریخ نے لکھا ہے کہ ترگت نے 126 سال عمر پائی تھی ساری زندگی جہاد کیا تھی سینکڑوں جنگیں لڑی تھیں اور ریاست کا وفادار رہے.
ترگت اور ارطغرل قریبا ہم عمر تھے لیکن ارطغرل کی انتہائی عزت کرتے تھے جب ارتغل 90 سال کی عمر میں وفات پا گئے اس کے بعد ترگت #عثمان_اول کے بھی وفادار رہے اور 36 سال عثمان کی حکمرانی میں بھی انہوں نے وفاداری میں کوئی کسر نا چھوڑی,
126 سال میں ترگت نے 5 مختلف کلہاڑی اور 7 تلوار استعمال کیے تھے جو استنبول کے فوجی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور انتہائی بڑھاپے کے باوجود بھی جہاد میں مصروف رہے اور 126 سال کی عمر میں شہید ہوئے..

افغان صدر اشرف غنی کا دو ہزار طالبان کی رہائی کا اعلان

0

طالبان کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں، افغان صدر اشرف غنی فوٹو:افغان حکومت

کابل: افغانستان نے عید الفطر کے موقع پر ہونے والی جنگ بندی کے دوران 2 ہزار طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جذبہ خیر سگالی کے تحت طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت طالبان کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

“طیارہ حادثہ،آنکھوں دیکھا حال”

0

“طیارہ حادثہ،آنکھوں دیکھا حال”

ایک بھائی نے بتایا کہ نمازِ جمعہ پڑھ کر گھر آ کر آرام کر رہا تھا کہ اچانک ابو نے بتایا کہ جہاز قریب ہی گرا ہے کوئی۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آئی اور فوراً حادثے کی جگہ کا تعین کرنے کے لئے گھر کی چھت پر بھاگا۔۔۔
دور ہی دھواں اٹھتا دیکھا اور جگہ کا اندازہ لگا کر فوری طور اس طرف روانہ ہو گیا…
جائے حادثہ پر پہنچا تو ابھی ملیر کینٹ کی چیک پوسٹ نمبر 2 اور 2 سے پاک فوج کی گاڑیاں نکل کر علاقے کو کور کرنے میں مصروف تھیں اور ہر طرف وہی وردی نظر آرہی تھی جس کو صبح شام یار لوگ گالیاں نکالتے ہیں۔۔۔خیر میں تیزی سے دوڑتا ہوا حادثے کے مقام کی طرف جانے لگا اور کچھ ہی لمحوں میں میرے سامنے اس جہاز کا ملبہ تھا جو کچھ وقت پہلے ہی لاہور سے اڑان بھر کر کراچی پہنچا تھا۔۔۔ یقین جانیں دل چھلنی ہوگیا اس جہاز کو بصورتِ ملبہ دیکھ کر کے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر اس جہاز کی منزل اس کے سامنے تھی مگر کون جانتا تھا کہ منزل سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر انکی آخری منزل انکی منتظر ہے۔۔۔ اللہ اللہ
میرے سامنے آگ ہی آگ تھی۔۔۔فوج کے جوان فوری طور پر علاقے کو عام عوام سے خالی کروا کر مزید کسی قسم کے جانی نقصان سے بچانے میں مصروف تھے۔۔۔میں بھی رضاکاروں کے ساتھ مل کر کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔ مگر تمام تر کاروائیاں کرتے ہوئے بھی میری نظر ہر طرف تھی اور ہر طرف موجود افراد و اہلکاروں کا تجزیہ کر رہا تھا۔۔۔
اور یقین کیجئے جو جو کچھ میں نے دیکھا حادثے کا احوال تو میں قطعاً الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ جو جو کچھ دیکھا اٹھایا وہ وہیں اسی ملبے پر یادداشت سے مٹا کر آیا ہوں تا کہ آئندہ کبھی یادداشت میں ایسا کوئی اور واقعہ نہ رونما ہو سکے۔۔۔ 😔
مگر جو جو رویے اور جو جو حرکات و سکنات میں وہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی دیکھ رہا تھا ان میں سے چند آپ کے سامنے ضرور بیان کروں گا۔۔۔

سب سے پہلے تو اہلِ علاقہ کا ذکر کرنا میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ ہر طرف میں دیکھتا تھا کہ ہمارے فوجی جوان اور دیگر رضاکار دھویں کے باعث گھٹن اور روزے کے مارے نڈھال ہونے لگتے تھے تو فوراً سے ہمیں اہلِ علاقہ میں سے کوئی نہ کوئی فرشتہ نما اپنی جانب دوڑ کر آتا نظر آتا تھا جو ہمارے سروں پر ٹھنڈا پانی ڈالتا ہمیں ٹھنڈے پانی سے منہ دھلا کر تازہ دم کرتا اور پھر سے ہم ریسکیو کرنے میں لگ جاتے۔۔۔واللہ اس وقت وہ لوگ فرشتے ہی لگتے تھے۔۔۔
علاقے کے 15 16 گھر متاثر ہوئے تھے مگر 5 6 تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔۔۔ کئی گاڑیاں کئی موٹرسائیکل جل کر راکھ ہو چکی تھیں۔۔۔
مگر میں نے دیکھا وہ شخص جس کا اپنا گھر بھی حادثے میں جزوی طور پر تباہ ہوا تھا
وہ اپنے گھر کی پرواہ چھوڑ کر ہمارے ساتھ مسافروں میں سے زندہ بچنے والوں کو نکالنے میں مصروف تھا۔۔۔ یقین جانیے شاید اتنا حوصلہ بذات خود میں بھی نہ دکھا سکتا ہوتا جتنا حوصلہ اللہ نے اس انسان کو عطاء فرمایا تھا۔۔۔

ہم نے جلد سے جلد ان لوگوں کو انکے گھروں سے باہر نکالا جن کے گھر آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے اور اسی دوران فوج، رینجرز اور سندھ پولیس مکمل طور پر علاقے کا کنٹرول سنبھال چکی تھی۔۔۔

مگر۔۔۔۔ مگر پھر اچانک ہی جہاں فائر بریگیڈ کے پائپ بچھائے جانے تھے وہیں پر ہمیں لمبے لمبے تار بچھتے ہوئے نظر آنے لگے اور یکا یک ایک ایسی خود غرض، بے حس و نا عاقبت اندیش قسم کی مخلوق ہر طرف پھیلتی دکھائی دینے لگی جس کو یہاں کے خستہ حال لوگوں، زخمیوں اور لاشوں کی پرواہ نہیں تھی بلکہ ان کو تو فکر تھی صرف اور صرف اپنے ایک “شاٹ” کی۔۔۔ جی جناب.. بس ایک شاٹ لینے دیں ہمیں ملبے کے سامنے سے۔۔۔ یعنی لوگوں کی جان بچانے کے بجائے ہم ان کو ایک شاٹ لینے دیں۔۔۔۔ وہ مخلوق کوئی اور نہیں بلکہ وہی تھی جس کو ہم میڈیا کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔۔
صحافیوں کو بس ایک شاٹ درکار تھا پھر چاہے اس شاٹ کی وجہ سے ریسکیو آپریشن متاثر ہو۔۔۔ یہاں تک کہ کسی زخمی کی چیخ و پکار موت کی ہچکی میں ہی کیوں نہ تبدیل ہو جائے۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔بس ایک شاٹ چاہیے۔۔۔
یقین جانیے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ ایک “بدبخت” فوج کے جوانوں سے ملبے کے قریب آنے کے لیے لڑ رہا تھا۔۔۔ جب ذرا غور کر کے دیکھا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ ملک کا جانا مانہ مذہبی اسکالر “عامر لیاقت حسین” تھا جو فوج کے جوانوں رینجرز کے اہلکاروں اور پولیس کے نوجوان سے لڑ رہا تھا صرف ایک شاٹ کے لئے۔۔۔ الامان الحفیظ
مگر پھر مجھے ایک دفعہ پھر سے دیدار ہوا “پیرِ کامل ڈنڈا پیر” کا۔۔۔ ڈنڈا پیر نے اپنے کمال دکھایا اور سارا کچرا پلک جھپکتے ہی سمٹتا چلا گیا۔۔۔😏

اب تک شام کے 5 بج چکے تھے اور میں اب دھویں اور روزے کے باعث نڈھال ہو چکا تھا اور بار بار پانی سے سر دھونا بھی اب بے اثر ہو چکا تھا۔۔۔
اس لئے متاثرہ مقام سے باہر نکلنا ناگزیر ہوگیا تو میں باہر آگیا اور اپنے دوستوں سے رابطہ کر کے فورسز کے جوانوں اور دیگر رضاکاروں کے لئے افطاری کا انتظام کرنے لگا اور 20 دیگوں کا آرڈر لگوا دیا۔۔۔
لیکن بھائیو جب افطاری کا وقت قریب آیا تو میں حیران تھا کہ اس وقت تک اتنے لوگ
افطاری کا سامان۔۔۔پانی کی بوتلیں… شربت… جوس… کھانہ… لے لے کر پہنچ چکے تھے کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے اچانک اتنی شدید تعداد میں نمودار ہو گئے ہیں… یقین جانیں اس وقت میرے دل نے گواہی دی کہ یہ ملک خداداد انہی اللہ کے بندوں کی وجہ سے قائم ہے…
یقین کریں اتنا وافر سامان لوگ لے کر پہنچ گئے تھے کہ مجھے اپنی 20 دیگوں کا آرڈر ختم کروانا پڑ گیا کیونکہ کہ اس کا ضائع جانا یقینی ہو گیا تھا…بس پھر ہم نے کھانے کے بجائے پانی کی بوتلوں اور ٹھنڈے اسپرے کا انتظام کیا اور ایک دفعہ پھر سے ریسکیو کے کام میں شامل ہو گئے۔۔۔۔

منقول